29 اکتوبر 2013 - 20:30
ڈاکٹر لاریجانی کی چین کے صدر سے ملاقات

اسلامی جمہوریہ ایران کی پالیمینٹ کے اسپیکر اور چین کے صدر نے تھران کے جوہری مسئلہ اور علاقائی و بین الاقوامی مسائل کے حوالے سے دو جابنہ بات چیت کی ہے۔

ابنا: اسلامی جمہوریہ ایران کی پالیمینٹ کے اسپیکر اور چین کے صدر نے تھران کے جوہری مسئلہ اور علاقائی و بین الاقوامی مسائل کے حوالے سے دو جابنہ بات چیت کی ہے۔ ہمارے نامہ نگار کی رپورٹ کے مطابق اسلامی جمہوریہ ایران کے اسپیکر ڈاکٹر علی لاریجانی نے آج بیجنگ میں چین کے صدر شی جین پینگ کے ساتھ ملاقات میں ایران کے جوہری مسئلہ کے بارے میں کہا کہ ایران کی جوہری سرگرمیاں ہرگز اپنے پر امن راستے سے منحرف نہیں ہوئی ہیں۔ اسلامی جمہوریہ ایران کے اسپیکر نے جنیوا میں ایران و گروپ پانچ جمع ایک کے درمیان ہونے والے حالیہ اجلاس میں تھران کی جانب سے پیش کیئے جانے والے پیکیج کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اس امید کا اظہار کیا کہ چین کے تعاون کے ساتھ جنیوا میں ایران و گروپ پانچ جمع ایک کے درمیان نئے مذاکرات کا جاری سلسلہ جلد از جلد مطلوبہ نتائج حاصل کرلے گا۔ ڈاکٹر لاریجانی نے اسی طرح علاقائی و عالمی سطح پر رونما ہونے والی تبدیلیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حالات میں ایران و چین کے درمیان مثبت تعاون اور دوستانہ تعلقات ، دونوں ملکوں کی قوموں کے فائدہ میں اور نہایت ہی مفید اور اثر گزار ہیں۔ ایران کی پارلیمینٹ کے اسپیکر نے اس بات کا ذکر کرتے ہوئے کہ دونوں ملکوں میں تاریخی و قریبی تلعقات روز بروز فروغ پارہے ہیں کہا کہ دونوں ممالک اقتصادی و سیاسی شعبوں میں ضروری تجربہ کے حامل ہیں اور تھران و بیجنگ کو تعاون کے فروغ کے لئے اپنی موجود گنجائشوں سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔ اسلامی جمہوریہ ایران کی پارلیمینٹ کے اسپیکر نے شام کے مسئلہ کی جانب اشارہ کرتے ہوئے وضاحت کی کہ شام کے حوالے سے بعض ملکوں کی غلط پالیسیاں اس ملک میں بے پناہ نقصان کا باعث بنی ہیں۔ ڈاکٹر لاریجانی نے مزید کہا کہ شام کے بحران کا تنہا راہ حل باہمی گفتگو ہے اور شام کے بحران کا فوجی راہ حل نہیں ہے۔ چین کے صدر شی جین پینگ نے بھی اس ملاقات میں ایران و چین کے تاریخی تعلقات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا دونوں ملکوں کے درمیان دوستانہ تعلقات ایران و چین کے عوام کے فائدے میں ہیں اور اس دوستی کے علاقے پر مثبت اثرات پڑھ رہے ہیں۔ چین کے صدر نے ایران کے ساتھ تعلقات کو مزید فروغ دینے کے لئے چین کی مکمل آمادگی کا اعلان کیا اور کہا کہ ایران کی پارلیمینٹ کے اسپیکر کا دورہ چین ، دونوں ملکوں کے تعلقات میں توسیع کا باعث بنے گا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۲۴۲